I’ve been lookin for this poem for quite a while. I knew it was posted on Faiza Bhati’s website, but the URL that I had for her website was givin me 404. Fortunately I got the correct URL from her Orkut profile… anyhow… ever since i read this one, it’s touched me… and i would like to put it up here…
بچپن
بچپن Ú©Û’ دکھ کتنے اچھے Ûوتے تھے
تب تو صر٠کھلونے ٹوٹا کرتے ØªÚ¾Û’ÙˆÛ Ø®ÙˆØ´ÛŒØ§Úº بھی کیسی خوشیاں تھیں
تتلی کے پر نوچ کے اچھلا کرتے تھےپاوں مار کے خود بارش کے پانی میں
اپنی کشتی آپ ڈبویا کرتے تھےاب سوچیں تو چوٹ سی پڑتی ÛÛ’ دل پر
آپ بنا کر آپ گھروندے توڑا کرتے تھےچھوٹے تھے تو مکر Ùˆ ÙØ±ÛŒØ¨ بھی چھوٹے تھے
Ø¯Ø§Ù†Û ÚˆØ§Ù„ کر چڑیا پکڑا کرتے تھےاپنے جل جانے کا Ø§ØØ³Ø§Ø³ Ù†Û ØªÚ¾
جلتے ÛÙˆÛ’ شعلوں Ú©Ùˆ چھیڑا کرتے تھےخوشبو Ú©Û’ اڑتے ÛÛŒ کیوں مرجھایا پھول
کتنے بھولےپن سے پوچھا کرتے تھےآج ÙˆÛÛŒ تعبیریں Ù„ÛÙˆ رلاتی Ûیں
بچپن میں جو سپنے دیکھا کرتے تھےاب تو آنسو بھی رسوا کر جاتا ÛÛ’
بچپن میں جی بھر رویا کرتے تھے








